Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed

Posted on

The exciting story of ‘Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed takes you through a world filled with different feelings and experiences. It talks about how people interact in society, covering topics like age gaps in relationships, marrying cousins, love stories, and the complex ways families work together.

Sumaira Hameed‘s storytelling artfully addresses topics like age disparities, cousin marriages, and contract and forced marriages, alongside gripping narratives of abduction and military life, all woven into a rich tapestry of cultural and personal exploration.

“دروازوں پر دیے جل رہے ہیں لیکن ان کے اندر۔۔۔چار دیواری میں کتنا گھپ اندھیرا ہے۔ بے شکل اندھیرا اور دروازوں پر دیے جل رہے ہیں۔”(ڈائری) وہ فلموں کی ہیروئن تھی لیکن ایک عام لڑکی تھی۔ عام لڑکی بن کر ہی محبت کی شادی کی اور اسی طرح دلہن بن کر رخصت ہونا چاہتی تھی۔ لیکن اب وہ شلوار قمیض میں، بھیگے گالوں کے ساتھ اپنی رخصتی خود ہی لے کر کمال کے گھر آگئی تھی۔

کمال کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا وہ اسے ہزار طرح سے بہلا رہا تھا۔ تسلیاں دے رہا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ “تم سے محبت میرا قصور ہے۔ بابو جی نے مجھے اپنے سنگیت سے زیادہ چاہا ہے اور میں انہیں تم سے زیادہ نہ چاہ سکی۔ جب میں نکاح کرنے جا رہی تھی تو تم نے مجھے سمجھایا کیوں نہیں کہ ہم پہلے بابو جی کو منائیں گے۔ ان کی رضامندی سے نکاح کریں گے۔ بابو جی نے آج مرنے کی باتیں کیں۔ انہوں نے کہا”مینا جی” مجھے منا کہنے والا باپ مجھے “مینا کماری ” کہہ رہا ہے۔

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اس گھر سے نکل جائیں جو میرے پیسوں سے بنا ہے؟وہ کہتے ہیں کہ کیا وہ ان نوالوں کو بھی منہ سے نکال نکال کر میرے ہاتھ میں دے دیں جو وہ کھا چکے ہیں۔ میں کیسی اولاد ہوں میں نے کیا کر دیا ؟ مجھے یہ کیوں لگا کہ میں تمہیں کھو دوں گی۔ اب دیکھو میں نے ایک کو پا کر دوسرے کو کھو دیا۔کیا حیثیت ٹھہری میرے باپ کی؟ میرے شوہر کے مقابلے میں کمتر ؟ میرا۔۔۔میرا باپ تم سے مقابلے میں ہار گیا۔ میں نے اسے ہرا دیا۔”ہسٹریائی ہو کر وہ ہنسنے لگئی۔

پھر رونے لگی۔ پھر قہقہے لگانے لگی۔ باپ کا دلایا آنچل مسلا گیا۔ آنکھ کا سارا کاجل پھیل گیا۔ آئندہ کبھی مینا کو کیمرے کے سامنے رونے کے لیے کسی مصنوعی سہارے کی ضرورت نہیں پڑی۔ غم کے سائے ہر فلم کے ہر منظر میں نظر آئے۔ اس کی آنکھ ہمیشہ بھیگی ملی۔ اس کی مسکان ہمیشہ زخمی دِکھی۔ اور یوں وہ “گریٹ ٹریجڈی کوئین آف انڈین سینما” کہلائی۔

Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed

Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed

For a better reading experience, click the download button to obtain the PDF version of ‘Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کریں

or

Choose the online reading option for immediate access to ‘Barha Bahag Ke Meena by Sumaira Hameed.

ناول کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Welcome to Novel Galaxy

At Novel Galaxy, we pride ourselves on curating a diverse array of Urdu novels, encompassing various genres and themes. Our collection features novels focused on social issues, tales of stoic heroes, revenge-driven plots, and much more. We offer an extensive range of Urdu e-books, digests, and spine-tingling horror and thriller stories. All novels are available for online reading and in downloadable PDF formats.

Discover the Richness of Urdu Novels

Dive into our comprehensive selection of Urdu novels, categorized for your convenience. Whether you’re seeking a heartwarming romance, a suspenseful thriller, or a reflective social commentary, our library has it all.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment