Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood

Posted on

Amna Mehmood is a social media writer. She wrote novels on many social topics like Vani base, age difference, friendship base, and a romantic story.  Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood presents our society’s issues. Her writing style is so mesmerizing that one can dive into their words.

The platform of novelgalaxy brought a golden opportunity for all writers who want to get recognition worldwide by their writers. So if you’re going to get your work published contact us.

Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood presents our society’s issues. Her writing style is so mesmerizing that one can dive into their words.

here we post Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood. if you want to read then click here to download this novel 👇

Novel name: Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood

Writer name: Amna Mehmood

Category: Romantic novel

Novel status: complete

sneak pic

آج پھر وہ حسب عادت بس آنے سے پہلے بھٹہ کھا کر وقت گزار رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ سے محو گفتگو بھی ____ یہ عادت اسے اپنی پھپھو سے وراثت میں ملی تھی. پتہ نہیں اشمل یہ دنیا اتنی فضول کیوں ہے ….. ؟؟ اشمل نے بآواز بلند ارد گرد نظریں دوڑاتے ہوئے کہا کسی کو بھی دیکھو لو ایک ہی رونا رو رہا ہوتا ہے. کہ پوری نہیں پڑتی __ مہنگی بہت ہے __ کیا کریں گزارا بڑا مشکل ہے. اشمل نے بھٹہ کھاتے ہوئے منہ کے زاویے بدلے اگر ایسا ہے تو یہ بڑی بڑی عالی شان کوٹھیاں، لگثری گاڑیاں، رنگ برنگے برینڈ کے کپڑے، اور طرح طرح کے لوازمات کون استعمال کر رہا ہے. بھوت یا جن …..؟ ؟ اشمل نے اونچی آواز میں خود سے پوچھا تو تھوڑے فیصلے پر بیٹھے فقیر نے اسے سر اٹھا کر دیکھا سوری مسٹر فقیر شاید آپ میری آواز سے ڈسٹرب ہوئے ہیں. اشمل نے معزرت کی جس پر فقیر نے دوبارہ اپنی گردن جھکا لی. بھٹہ کھاؤ گے …… ؟؟ یہ وہ سوال تھا جو اشمل پچھلے دو ماہ سے مسلسل اس فقیر سے پوچھ رہی تھی. فقیر نے “نہ” میں گردن ہلائی اور دوبارہ مین پر کچھ لکھنے لگا. مجھے تم پر شدید حیرت ہے میں نے آج تک ایسا انسان نہیں دیکھا جو “سُن” تو سکتا ہو مگر “بول” نہ سکے. اشمل نے بھٹہ پھینکتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑے. فقیر نے ایک نظر دور سڑک پر پڑے بھٹے کی طرف دیکھا اور پھر اشمل کو دیکھتے ہوئے سر افسوس سے نفی میں ہلایا. بس کرو ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا اس ملک کی صفائی کا ___ ویسے بھی آج میرا دماغ بہت خراب ہے. تمہیں میں نے بتایا تھا ناااااا کہ میرا باس پاگل ہے مگر پڑھا لکھا پاگل ___ اور پڑھا لکھا پاگل عام پاگل سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے. پوچھو کیسے ……؟ ؟ اشمل نے اپنا ہاتھ ہوا میں نچاتے ہوئے فقیر سے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا وہ ایسے کہ عام پاگل یا تو ہنستا ہے یا روتا ہے مگر پڑھا لکھا پاگل نہ تو ہنستا ہے اور نہ ہی روتا ہے بلکہ وہ صرف “بھونکتا” ہے وہ بھی انگلش میں ___ اشمل نے غصے سے کہتے ہوئے سڑک کی طرف دیکھا جس پر فقیر کے چہرے پر زرا سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی. چلتی ہوں بس صاحبہ تشریف لے آئی ہیں. ہائے اشمل تیری آدھی زندگی تو اس بس میں خوار ہوتے گزر گئی ہے. اشمل خود کلامی کرتی بس میں سوار ہو گئی جبکہ فقیر نے اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھا.

Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood pdf is here

Had Hi Kr De Hum Na Yaara Novel by Amna Mehmood

Download here

Or

Download from google docs 

A list of Amna Mehmood’s other novels is here

تمام سوشل میڈیا رائیٹرز کو “ ناول گلیکسی” کی ٹیم خوش آمدید کہتی ہے  ۔

ہماری ٹیم کا حصہ بننے کے لیئے اپنا مواد اس ای میل پر بھیجیں۔

Novelgalaxy27@gmail.com

You might also like these NOVELS

Leave a Comment