Hisaar E Ishq Ka Junoon By Asra Rehman

Posted on

Hisaar E Ishq Ka Junoon By Asra Rehman complete Urdu novel based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic, family system-based, kidnapping-based, funny, contract marriage, forced marriage, army-based books, etc.

صدام ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا… اسے نیند نہیں آرہی تھی… عجیب عجیب سے خیالات اس کے ذہنی سکون کو منتشر کر رہے تھے… وہ جتنا بھی مائسہ ابراہیم خان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی کوشش کرتا اتنا ہی ناکامیاب ہوجاتا… کچھ ایسا کر بیٹھتا جس سے وہ اور بھی زیادہ اس سے متنفر ہو جاتی… اور بھی زیادہ اس سے دور ہو جاتی… اسے احساس تھا اپنی غلطیوں کا اپنی کوتاہیوں کا اپنے ظلم کا… یہی احساس اسے چین سے سونے نہیں دے رہا تھا… اس بار تو اس نے حد ہی کر دی تھی… اس کی بھوری خوفزدہ نمکین پانیوں سے بھری آنکھیں اس کے ذہن و دل میں کھب کر رہ گئی تھیں… شاید اسے اس سے بات کرنی چاہئے… اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی چاہیے.. اس پھول جیسی لڑکی کو پھولوں سے محبت تھی… جبکہ اس نے اپنے عمل سے اس پھول کو مرجھا دیا تھا… اپنی سوچوں میں گم وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا… اس کے قدم باغ کی طرف اٹھ رہے تھے… وہ شاید اس کو پھول دے کر منانا چاہتا تھا… “صدام بابا آپ یہاں…؟” اپنے اوزاروں کے ساتھ مگن مالی بابا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا.. وہ اس وقت اس کی یہاں موجودگی پر حیران کے ساتھ خوش بھی ہوۓ تھے.. ان کے خوشی سے چمکتے چہرے کو دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرا دیا.. رحیم بابا اس کے بابا سردار جہانگیر شاہ کے زمانے سے یہاں مالی لگے ہوۓ تھے… صدام ان کے بہت قریب تھا… بوڑھا ہونے کے باوجود بھی وہ اب بھی حویلی میں موجود تھے صرف صدام کی محبت کی وجہ سے… وہ اسے اپنے باپ سے بھی زیادہ عزیز تھے… “سلام بابا..! میں وہ… کچھ پھول دے سکتے ہیں آپ مجھے..” اس کے لہجے میں ہچکچاہٹ تھی.. محبت نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا..! “مائسہ بی بی کے لئے..” ان کے بوڑھے لب مسکرا رہے تھے… صدام انہیں اپنے محبت کی داستان کو محسوس کرتا دیکھ سکتا تھا… “جی… لیکن گلاب نہیں..” بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ دھیرے سے بولا.. “ہاں مجھے یاد ہے مائسہ بی بی کو گلاب کچھ خاص نہیں پسند… حالانکہ گلاب کو پھولوں کا بادشاہ مانا جاتا ہے…محبت کی نشانی کے طور پر اسے پیش کیا جاتا ہے… اس میں وہ کشش ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے.. لیکن مائسہ بی بی کو یہ خاص متاثر نہیں کرتا… انہیں تو یہ ذنگ برنگے جنگلی پھول پسند ہیں…” وہ جھک کر ان رنگ برنگے پھولوں کو پیڑ سے چنتے ھوۓ بولے… صدام حیرانی سے انہیں سن رہا تھا… کیا واقعی اسے یہ پسند ہیں…؟ یہ لڑکی تو اسے حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی… “آپ اس سے مل چکے ہیں…؟” اس کے پوچھنے پر رحیم بابا نے اثبات میں سر ہلا دیا.. “میں اپنی زندگی میں پہلی ایسی لڑکی سے ملا ہوں جس کے اندر عاجزی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہے… بالکل ان خوبصورت پھولوں کی طرح جو دکھنے میں بالکل الگ رنگ و ہیبت کے مالک ہیں لیکن ان کا کام ایک ہے دوسروں کی زندگی میں خوشبو پھیلانا… وہ بہت حساس ہے… ہر کسی سے محبت کرنا جانتی ہے… خود تو ٹوٹ کر بکھر جاۓ گی لیکن دوسروں کو تکلیف بھی نہ ہونے دے گی..” پھولوں کا گلدستہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے.. صدام جہانگیر شاہ نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا مائسہ ابراہیم خان کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا… دعا کر رہا تھا کہ شاید یہ پھول اسے معافی دلانے میں کامیاب ہو جائیں… دروازے پر پہنچ کر اسے کچھ بدحالی کا احساس ہوا.. راہداری کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں جبکہ وہ آدمی بھی غائب تھا جس کی ڈیوٹی لگائی تھی دروازے پر مائسہ ابراہیم خان کی حفاظت کے لئے… ماتھے پر بل لئے اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا جو حیرت انگیز طور پر کھلا ہوا تھا… دروازہ کھولتے ہی اس کی آنکھوں کو جو منظر دیکھنے کو ملا وہ اس کی کھوپڑی گھما دینے کے لئے کافی تھا… ایک نقاب پوش مائسہ پر جھکا ہوا تھا جبکہ باقی تین بیڈ کے پاس کھڑے اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے… ہاتھ میں موجود پھول اس کی سخت گرفت سے دم توڑ چکے تھے… غصے سے کھولتا پھولوں کو پیروں تلے روندتا وہ آگے بڑھا اور بیڈ کے پاس کھڑے ان تین نقاب پوشوں میں سے ایک پر جھپٹا… وہ جو اس کی آمد سے بےخبر اپنی آنکھیں سینک رہے تھے گڑبڑا کر اس کی طرف متوجہ ہوۓ.. “حمیم شاہ…!” اس نے گرفت میں پھڑپھڑاتے نقاب پوش کے پیٹ میں ایک زوردار مکا رسید کیا اور مائسہ ابراہیم خان پر جھکے ہوئے آدمی کی طرف جھپٹا اور ایک ہی جھٹکے سے اسے کھینچ کر اس کے چہرے پر کا نقاب اتارا… لیکن وہ حمیم نہیں تھا… وہ تو ایک عام آدمی تھا… ایک عام آدمی کی اتنی ہمت کہ اس کی مائسہ کو ہاتھ لگاۓ… اسے تو اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا.. اس نے اتنی زور سے اس کے منہ پر مکا مارا کہ اس کی ناک سے خون بہنے لگا… اس سے پہلے کہ وہ اس کے منہ پر مکوں کی برسات کرتا ان تینوں میں سے ایک نے اسے پیچھے سے دبوچ لیا جبکہ دوسرا بیڈ پر بیہوش پڑی مائسہ پر جھک گیا اور چاقو سے اس کی آستین پھاڑنے کی کوشش کرنے لگا… لمحے کے ہزارویں حصے میں صدام جہانگیر شاہ کے اندر کا درندہ بیدار ہوا اور غراتے ہوئے پوری قوت سے اپنی کوہنی اس آدمی کے منہ پر دے ماری جس نے اسے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا.. وہ خود کو کیا سمجھ رہے تھے..؟ ابھی وہ اسے زمین پر پٹخنی دینے والا تھا کہ دوسرے آدمی نے چاقو سے اس کے بازو پر حملہ کر دیا.. درد سے کراہتے اس نے چاقو اپنے بازو سے نکالا… خون اس کے بازو سے تیزی سے رِس رہا تھا.. دانتوں کو مضبوطی سے جماۓ وہ درد کو برداشت کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر وہ ٹوٹ گیا تو بہت کچھ کھو دے گا… نہیں! وہ اب کچھ کھونے کی طاقت نہیں رکھتا تھا…! وہ خود کو لڑنے کے لئے تیار کر ہی رہا تھا کہ دوسرے آدمی نے اس کے پیر پر چاقو سے اتنی زور سے وار کیا کہ وہ خود کو گرنے سے روک نہ پایا… ہاتھ میں پکڑا چاقو اس نے مضبوطی سے پکڑ کر پوری قوت سے پاس کھڑے آدمی کے پیٹ میں گھسا دیا… درد سے چیختا ہوا وہ زمین پر گر پڑا… صدام کو حیرانی ہو رہی تھی کہ ایک کمرے میں اتنا کچھ ہو رہا ہے اور حویلی والوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی… اسے اب کمزوری کا احساس ہو

Dive into the Depths of Emotion and Discovery with ‘Hisaar E Ishq Ka Junoon By Asra Rehman: A Tale of Love, Identity, and the Life Journey Within.

Hisaar E Ishq Ka Junoon By Asra Rehman

Hisaar E Ishq Ka Junoon By Asra Rehman

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈکرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں

👇

or

ناول کوپڑھنے کے لیےیہا ں کلک کریں

👇

Novel Galaxy is a world of Urdu novels based on social issues, rude heroes novels, Urdu revenge base novels, Urdu E-book, Urdu digest, Urdu horror and thriller novels, etc. All novels are also available online and in PDF form.

Top Categories of Urdu Novels 

 Here, you will find a list of Urdu novels from all categories that can easily be downloaded in PDF format and saved into your devices/mobile with just one click.

There’s no content to show here yet.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment