Ishq By Areej Shah

Posted on

Ishq By Areej Shah complete Urdu novel based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic, family system-based, kidnapping-based, funny, contract marriage, forced marriage, army-based books, etc.

شہریار میں آجاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟ شہریار مجھے بلا لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار مجھے اجازت دیں ۔۔۔۔۔۔۔ شہریار مجھے باہر بلالیں۔ ۔۔۔۔۔۔ شہریار میں باہر آجاؤں۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟ ہر ایک پکار کے ساتھ وہ کروٹ بدل رہا تھا ۔ لیکن یہ آواز اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی ۔

آج سے نہیں بلکہ برسوں سے یہ آواز پل پل اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔ آج سارا دن ٹف روٹین کی وجہ سے وہ بہت تھک گیا تھا اس وقت اسے آرام کی شدید ضرورت تھی ۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس کی آنکھ لگ گئی تھی کہ ایک بار پھر سے ان آوازوں نے اسے بے بس کردیا ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور کمرے کی لائٹ اون کی ۔ اب اسے ان آوازوں سے ڈر نہیں لگتا تھا اسے عادت ہوچکی تھی ۔ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ آوازیں اسے کب سے آرہی ہیں ۔

جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا وہ زندگی کی کسی بھی رات پرسکون ہو کر نہیں سویا تھا ۔ بچپن میں ہی اسے اپنے ملک اور اپنےاپنوں سے دور کینیڈا آنا پڑا ۔ شاید وہ آٹھ سال کا تھا جب یہاں آیا اور تب سے بس یہی تھا بالکل تنہا ۔ اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ۔اس نے زندگی میں ایسی کوئی رات نہیں کاٹی تھی جب اس نے یہ آواز نہ سنی ہو اسے عجیب سی نفرت تھی اس خوبصورت آواز سے ۔جس نے اس کی زندگی کےہر پل کا سکون چین کر رکھا تھا ۔

وہ اٹھ کر واشروم میں آیا ۔ اس نے منہ دھونے کے لئے نل کھولا ہی تھا کہ آوازیں ایک بار پھر سے آنے لگی۔ اس نے جلدی سے منہ ہاتھ دھویا اور اپنا جیکٹ اٹھا کر باہر نکل آیا ۔ ہر روز کی طرح آج بھی اس کا ارادہ کلب جانے کا تھا ۔ شاید شور شرابے میں کہیں یہ آواز دب جائیں وہ اکثر راتیں اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے کلب جایا کرتا تھا ۔ لیکن پھر بھی آوازیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی ۔ ہاں لیکن کم ضرور ہو جاتی تھی ۔

آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔لوگوں کے شورشرابے میں اسے وہ آواز بہت دور سے سنائی دیتی تھی ۔اس وقت وہ پرسکون تھا ۔ بچپن میں یہ آواز کسی بچی کی ہوا کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ کسی کمسن لڑکی سے وہ آواز آج ایک نسوانی آواز بن گئی تھی ۔

وہ کون تھی۔۔۔۔۔۔؟ اس کا نام کیسے جانتی تھی۔۔۔۔۔۔؟ اسے کیوں پکارتی تھی۔۔۔۔۔۔۔؟ اس کے ساتھ اس کا کیا رشتہ تھا۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ اس سے باہر آنے کی اجازت کیوں مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔؟ وہ کہاں تھی۔۔۔۔۔۔؟ کیا وہ کہیں قید تھی۔۔۔۔۔؟ شہریار کچھ نہیں جانتا تھا ۔اسے پتہ تھا تو بس اتنا کہ اس کی ماں نے اس بارے میں اس سے کوئی بھی سوال پوچھنے سے منع کیا ہے اسے اپنی قسم دی ہے کہ وہ کبھی بھی اس بارے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھے گا اور نہ ہی کبھی کسی کو کچھ بتائے گا ۔

شہریارنے اس بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا وہ کوئی ڈرپوک انسان نہ تھا ۔اور نہ ہی اسے آوازوں سے خوف آتا تھا مگر تجسس ضرور تھا اس کے بارے میں جاننے کا لیکن اس کی ماں نے اسے یہ بتایا تھا ۔ یہ آواز محبت کیے جانے کے قابل نہیں ہے اگر تم نے اس آواز کی طرف دھیان دیا تو تم ہم سے دور چلے جاؤ گے بہت دور اور وہ دور ہی تو تھا ۔

کتنا دور تھا اپنے ماں باپ سے اپنے ملک سے نجانے کونسے خوف کے تحت اس کے والدین نے اسے خود سے اتنا دور رکھا تھا ۔ چار بجے کے بعد وہ آوازیں اسے پکار پکار کر دم توڑ دیتی اور آج بھی یہی ہوا تھا دو گھنٹے کلب میں رہنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر آیا تھا اسے آرام کی ضرورت تھی صبح 11 بجے کے قریب اس کی ایک میٹنگ تھی ۔

Dive into the Depths of Emotion and Discovery with ‘Ishq’ By Areej Shah: A Tale of Love, Identity, and the Life Journey Within.

Ishq By Areej Shah in Pdf

Ishq By Areej Shah

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈکرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں

👇

or

ناول کوپڑھنے کے لیےیہا ں کلک کریں

👇

Novel Galaxy is a world of Urdu novels based on social issues, rude heroes novels, Urdu revenge base novels, Urdu E-book, Urdu digest, Urdu horror and thriller novels, etc. All novels are also available online and in PDF form.

Top Categories of Urdu Novels 

 Here, you will find a list of Urdu novels from all categories that can easily be downloaded in PDF format and saved into your devices/mobile with just one click.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment