Jane Pehchany Se Ajnabi By Swera Ahmad

Posted on

Jane Pehchany Se Ajnabi By Swera Ahmad complete Urdu novel based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic, family system-based, kidnapping-based, funny, contract marriage, forced marriage, army-based books, etc.

چھپکلی ؟۔۔۔۔ تم ایک چھپکلی سے ڈر گئی مہر ماہ ؟ ” ۔ اردشیر نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ تو مہر و بنا اسکے لہجے کی سنجیدگی جانچے زور و شور و سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔ کچھ نہیں کرے گی۔۔۔ وہ بے چاری توخود تمہیں دیکھ کر ڈرگئی ہوگی۔ جاؤ جا کر سو جاؤ۔۔۔ اور مجھے بھی سونے دو”۔ اسے پرے کرتے ہوئے بلینکٹ لے کر پھر سے سوتا بن گیا۔ مہرونے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ یہ تھا اسکا شوہر ‘۔ جس کیلئے اگر وہ مر بھی جاتی تو شاید تب بھی اسکے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ مارے بے بسی کے اسے اور شدت سے رونا آگیا۔ سوں سوں کی آواز سن کر اس نے چہرے سے بلینکٹ ہٹایا۔ سامنے ہی اسکا روتا ہوا چہرہ نظر آرہا۔ جو معصومیت کے سارے رکارڈ توڑے اسے دیکھتی، ساتھ آنسو بھی بہار ہی تھی۔ بیزار سا ہو کر وہ پھر سے اٹھ بیٹھا۔ “کیا ہے ؟ اب یہ رونے کا بخار کیوں چڑھا ہے ؟ “سخت لہجے میں اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ تو وہ جو چار آنسو رو رہی تھی۔ اپنی جگہ سے اچھل کر وہاں لیٹ گئی جہاں وہ ابھی سورہا تھا۔ ارد شیر اس اچانک افتاد پر حیرت سے اسے تک رہا تھا۔ بدک کر وہ اس سے دور ہٹ گیا۔ اب وہ اسی کا بلینکٹ تان کر مزے سے سونے لگی تھی۔ “یہ سب کیا ہے مہرماہ” غصے سےاس کا کمبل کھینچا۔ ” کیوں؟ ابھی آپ ہی نے تو کہا کے مہرماہ سو جاؤ۔۔۔کچھ نہیں ہوتا۔۔ میں وہی تو کر رہی ہوں تو اب بھی آپ کو مسئلہ ہو رہا۔۔کھڑوس نہ ہو تو” ننھی سی ناک سکوڑ کر اس کے ہاتھ سے کمبل کھینچا۔ پھر سے خود پر ڈال کر وہ سونے کیلئے لیٹ گئی۔ یہ اچھی مصیبت گلے پڑی ہے میرے” ۔ بڑبڑاتے ہوئے وہ بھی اسکے برابر ہی دراز ہو گیا۔ ساتھ ہی اس سے کمبل کھینچ لیا۔ مہر ماہ نے گھور کر اسے دیکھا اور اب سرہانے پڑے کشنز اٹھا کر اسکے اور اپنے درمیان رکھنے لگی۔ اردشیر چونکا۔ “اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے ؟”۔ اس نے حیرت سے کہا۔ ” میں دیوار بنارہی ہوں۔ تاکہ آپ میرے حصے والی جگہ پر نہ آئیں “۔ رسانیت سے جواب دے کر واپس لیٹ گئی۔ جبکہ وہ کہنی اونچی کیئے ، ہاتھوں پر چہرہ لگائے اب فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اور یہ دیوار پھاند کر اگر میں تمہاری طرف آگیا تو ؟”۔ مسکراہٹ ضبط کر کے اس نے کہا اس بات پر مہرو نے اسے گھورا۔ پھر اسی کے سے انداز میں کہنی اونچی کر کے ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے اسکی جانب دیکھا۔ اب ان کے درمیان رنگ برنگے مخملی کشنز کی دیوار تھی۔ ۔ دیکھئیے، آپ جیسی عظیم شخصیت کو اپنے اصول توڑنا سوٹ تھوڑی کرے گا”۔ لہجے میں چاشنی گھول کر عظیم شخصیت کو دانتوں تلے پیس ڈالا۔ تو پھر ایسے عظیم شخصیت سے اتنا فاصلہ رکھنے کی کوئی وجہ ؟ اس گریز کی پھر تُک ہی کہاں بنتی ہے؟”۔ وہ جانے کس احساس کے تحت اس سے یہ سب کہہ گیا۔ جبکہ مہر و اسکی اس بات پر لاجواب ہو گئی۔ “فکر مت کرو۔ کردار کا میں پکا ہوں، اور اپنے نفس کو لگام دینا مجھے آتا ہے۔ سو جاؤاب” سنجیدگی سے کہا۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے رخ موڑ کر سو گئے۔ ان دونوں کے درمیان جمی برف اب پگھلنے لگی تھی۔ مگر فاصلہ اب بھی حائل تھا۔ دونوں اب بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہی تھے

Dive into the Depths of Emotion and Discovery with ‘Jane Pehchany Se Ajnabi By Swera Ahmad: A Tale of Love, Identity, and the Life Journey Within.

Jane Pehchany Se Ajnabi By Swera Ahmad

Jane Pehchany Se Ajnabi By Swera Ahmad

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈکرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں

👇

or

ناول کوپڑھنے کے لیےیہا ں کلک کریں

👇

Novel Galaxy is a world of Urdu novels based on social issues, rude heroes novels, Urdu revenge base novels, Urdu E-book, Urdu digest, Urdu horror and thriller novels, etc. All novels are also available online and in PDF form.

Top Categories of Urdu Novels 

 Here, you will find a list of Urdu novels from all categories that can easily be downloaded in PDF format and saved into your devices/mobile with just one click.

There’s no content to show here yet.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment