Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan

Posted on

Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan pdf is available here. Abeera Hassan is a social media writer. Her writing style is so mesmerizing that one can dive into their words. She writes Urdu novels based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic novels, family system-based novels, kidnapping-abased novels, funny, contract marriage, forced marriage, army-based novels, etc.

The platform of the Novel Galaxy brought a golden opportunity for all writers who want to get recognition worldwide by their writers. So if you’re going to get your work published contact us.

Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan Chaudhary presents our society’s issues. you can download this novel pdf easily with just one click.

Novel name: Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan

Writer name: Abeera Hassan

Category: Romantic

Novel status: complete

چچ چچ چچ چچ۔۔۔ ڈیئر کزن کیا حال ہوگیا تمھارا دیکھو تو۔۔۔۔ مگر یہ کیا۔۔۔؟؟؟ اتنی سی مار سے ہی تھک گئے۔۔۔؟؟ ابھی تو مجھے بھی اپنے ہاتھوں کی کھجلی بھی تم سب پر ختم کرنی ہے۔۔۔” محشم نے زین کے بالوں کو پیچھے سے پکڑتے ہوئے زور سے کھینچا تھا۔۔

زین نے جانی پہچانی سی آواز سن کر تکلیف کی شدت سے پھٹتی اپنی آنکھوں کو کھولا اور اپنے سامنے کھڑے محشم کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بے یقینی اتر آئی تھی۔۔۔ “محشم بھائی آپ۔۔۔۔؟؟؟ یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ سب آپ نے کروایا ہے۔۔۔؟؟؟”

زین نے درد کی شدت سے لرزتی آواز میں پوچھا۔۔۔ “ہاں کمینے میں۔۔۔ تیرے ساتھ یہ سب میرے ہی کہنے پر کیا گیا ہے۔۔۔” کہنے کے ساتھ ہی محشم نے ایک زوردار تھپڑ زین کے دکھتے منہ پر مارا تھا۔۔۔۔ “کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا بتائیں۔۔؟؟” اتنی مار کھانے کے بعد بھی زین کی ڈھٹائی عروج پر تھی وہ اب بھی محشم سے پوچھ رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ یہ سب کیوں کر رہا ہے۔۔۔؟؟

اسی بات نے محشم کا میٹر گھما ڈالا تھا اور پھر وہی ہونا تھا جو ایسے وقت میں ہوتا تھا۔۔۔ محشم نے چینختے ہوئے کامران کو آواز دی تھی اور اس کے ہاتھ میں تھمے موٹے ڈنڈے کو چھین کر زین کی اس بری طرح دھلائی کی تھی کہ پورا کمرہ زین کی چینخوں سے گونج اٹھا تھا۔۔

زین کے ساتھ بندھے اس کے چاروں دوست بھی محشم کی پٹائی اور زین کی چینخیں سن کر لرز اٹھے تھے۔۔ ان میں سے دو تو باقاعدہ چینخ چینخ کر رونے لگے تھے کیونکہ انھیں لگ رہا تھا کہ زین کے بعد ان کی باری آنے والی ہے۔۔۔ محشم بنا اپنے ہاتھ کی چوٹ کی فکر کئے بری طرح زین کو پیٹ رہا تھا۔۔۔

اس کے ہاتھ پر جزا نے جو پٹی باندھی تھی وہ بھی کھل کر لٹکنے لگی تھی مگر وہ سب کچھ بھولے ہوئے درد سے چینختے زین کو مار رہا تھا۔۔۔ “محشم م م م م م۔۔۔۔ خدا کے لئے رک جائیں۔۔۔” جزا کی تیز چینختی آواز پر محشم اچانک ہی رکا تھا اور اس نے حیرت سے پلٹ کر اپنے پیچھے کھڑی جزا کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan pdf is here

Khuwab Nagar Ka Hamrahi by Abeera Hassan

Download here

Or

Download from google docs 

تمام سوشل میڈیا رائیٹرز کو ” ناول گلیکسی” کی ٹیم خوش آمدید کہتی ہے 

ہماری ٹیم کا حصہ بننے کے لیئے اپنا مواد اس ای میل پر بھیجیں۔

Novelgalaxy27@gmail.com

You might also like these NOVELS

Leave a Comment