Momin Ke Guriya By Wahiba Fatima

Posted on

The exciting story of ‘Momin Ke Guriya By Wahiba Fatima takes you through a world filled with different feelings and experiences. It talks about how people interact in society, covering topics like age gaps in relationships, marrying cousins, love stories, and the complex ways families work together.

وہ سفید یونیفارم پہنے بڑی سی چادر سے خود کو مکمل ڈھانپے تیز قدموں سے چل رہی تھی اسے کافی دیر سے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کا تعقب کر رہا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک منحوس سی شکل کا بھدا سا آدمی اس کا پیچھا کر رہا تھا اب تو وہ بے تحاشہ گھبرائی تھی۔۔ تبھی اسے کے پیروں میں بائیک چرچرائی تھی۔۔ وہ چونکی۔ تو سامنے ہی وہ شخص بائیک پر ہمیشہ کی طرح نگاہیں جھکائے بیھا تھا۔ مگر اب وہ اس کے تعقب میں آنے والے کو بہت بری طرح گھور رہا تھا۔ بیٹھو گڑیا،، گھر چھوڑ دوں،، اس نے ایک جملے میں بات مکمل کی۔ بھاری خوبصورت احترام میں ڈوبا لہجہ،، ادھر ادھر دیکھتا وہ ہمیشہ کی طرح گڑیا کا دل بہت بری طرح دھڑکا گیا تھا۔ مگر ہمیشہ کی طرح ہی گڑیا نے ان بے نام جزبوں کو اپنے دل میں کہیں دفنا دیا۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے بائیک پر مومن بھائی،، وہ منمنائی۔ بیٹھو گڑیا،، حتمی فیصلہ سناتے اب کی بار ماتھے پر بل آئے تھے۔۔ وہ بنا چوں چرا کیے اب بائیک پر کافی سے زیادہ اس سے فاصلہ رکھتی بائیک پر بیٹھ چکی تھی۔ جانتی تھی اس شخص سے زرا سا بھی ٹچ ہو گئی تو ناصرف اسے خود بہت برا لگے گا بلکہ وہ بھی بری طرح جھڑک دے گا ۔۔ الله کا نام لے کر مضبوطی سے پچھلے ہینڈل کو پکڑ لیا۔۔ راستے میں ایک جگہ جمپ آیا تو گڑیا کے ہاتھ نے بے اختیار مومن کے کندھے کو تھاما تھا۔۔ گڑیا نے فوراََ سے پہلے ہاتھ پیچھے ہٹایا تھا۔ جانے کیوں گڑیا کو محسوس ہوا کہ اس سنجیدہ سوبر سے شخص کے گھنی مونچھوں تلے لبوں کو مبہم سی مسکان نے چھوا تھا۔ وہ تمام رستے اس احتیاط سے بائیک چلاتا آیا کہ پیچھے بیٹھی لڑکی کا زرا سا بھی توازن نا بگڑے اور وہ نا ڈرے نا اس کو چھوئے۔۔ منزل پر پہنچ کر مومن نے نرمی سے بائیک روکی۔۔ شکریہ مومن بھائی،، اس نے اتر کر شکریہ ادا کیا۔ آیئے ناں اندر، امی کو پتہ چلے گا کہ آپ دروازے سے واپس لوٹ گئے تو ان کو بہت برا لگے گا۔۔ کوئی بات نہیں ،،دکان پر جا رہا ہوں،، دیر ہو رہی ہے،، اب چلتا ہوں،، بول کر اس نے بائیک سٹارٹ کی۔ اسے سٹل ادھر ہی جمے دیکھا تو گڑیا اندر جاؤ،، ناگواری سے کہا گیا۔۔ وہ گڑبڑا کر اندر بھاگی۔۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا سامنے ہی ماں کچن میں مصروف نظر آئی تو خود کو کمپوز کر کے اپنے کمرے میں آ کر اپنے سنگل بیڈ پر ڈھے گئی۔۔ افففففففف،، کتنا برداشت کرتی۔۔ دل خون کے آنسو روتا تھا۔ کتنی آسانی سے اس کی بچپن کی محبت اس کی منگ کو کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ بھی کس کی خاطر؟ باہر مومن خاموشی سے اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا۔ بچپن سے بابا نے دل و دماغ میں بٹھایا تھا کہ گڑیا تو مومن کی ہے۔۔ ہمیشہ یہی سننے کو ملا تھا۔ جانتا تھا گڑیا نے خود کو کیسے چھپا کر اور سینت سینت کر رکھا ہے تبھی تو خود کا دامن پاک صاف رکھا ہميشہ ،،کیونکہ ہمیشہ اسے یہی بولا جاتا رہا تھا۔ کہ وہ تو مومن کی گڑیا ہے

Wahiba Fatima’s storytelling artfully addresses topics like age disparities, cousin marriages, and contract and forced marriages, alongside gripping narratives of abduction and military life, all woven into a rich tapestry of cultural and personal exploration.

Momin Ke Guriya By Wahiba Fatima

momin ki guria by wahiba fatima

For a better reading experience, click the download button to obtain the PDF version of ‘Momin Ke Guriya By Wahiba Fatima

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کریں

or

Choose the online reading option for immediate access to ‘Momin Ke Guriya By Wahiba Fatima

ناول کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Welcome to Novel Galaxy

At Novel Galaxy, we pride ourselves on curating a diverse array of Urdu novels, encompassing various genres and themes. Our collection features novels focused on social issues, tales of stoic heroes, revenge-driven plots, and much more. We offer an extensive range of Urdu e-books, digests, and spine-tingling horror and thriller stories. All novels are available for online reading and in downloadable PDF formats.

Discover the Richness of Urdu Novels

Dive into our comprehensive selection of Urdu novels, categorized for your convenience. Whether you’re seeking a heartwarming romance, a suspenseful thriller, or a reflective social commentary, our library has it all.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment