Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary

Posted on

Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary pdf is available here. Zoya Majeed is a social media writer. Her writing style is so mesmerizing that one can dive into their words. She writes Urdu novels based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic novels, family system-based novels, kidnapping-abased novels, funny, contract marriage, forced marriage, army-based novels, etc.

The platform of the Novel Galaxy brought a golden opportunity for all writers who want to get recognition worldwide by their writers. So if you’re going to get your work published contact us.

Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary presents our society’s issues. you can download this novel pdf easily with just one click.

Novel name: Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary

Writer name: Zoya Majeed

Category: Romantic

Novel status: complete

“آپ یہاں سے نہیں جا سکتیں مس کنول۔” وہ جانے لگی تھی جب ریان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، قدم ایک دم رکے تھے، دل الگ ہی لے پر دھڑکا تھا مگر دل پر دو حرف بھیج کر گہرا سانس لیا اور پلٹی، جہاں دشمن جان پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے ہی تک رہا تھا۔

“میں یہ جاب چھوڑ چکی ہوں، لعنت بھیجتی ہوں اس جاب پر۔” وہ غصے سے بولی تھی، آخری جملہ دل میں کہا تھا مگر ریان کی زیرک نگاہوں نے اس کے ہونٹوں کی حرکت سے ہی انداز لگا لیا تھا۔ “آپ بھلے دل میں لعنتیں بھیجیں اس جاب پر مگر آپ نہیں جا سکتیں، آپ کو لعنت بھیجی جاب کرنی ہو گ

ی۔” ریان نے مبہم سا مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ “کسی بھی امپلائے کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے نوکری چھوڑ کر چلا جائے۔” وہ تلملاتے ہوئے اسے دیکھے بنا بولی تھی۔ “کسی بھی امپلائے ، پہلی بات تو یہ کہ آپ کسی بھی نہیں ہیں، دوسری بات یہ کہ آفس رولز میں نہیں یہ ہے کہ آپ تین مہینے سے پہلے نوکری نہیں چھوڑ سکتے اور چھوڑنی بھی ہے تو تین ماہ پہلے بتانا ہو گا۔” دونوں میں فاصلہ اتنا ہی برقرار تھا، ریان سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ “آپ یہ گھٹیا رول مجھے لگتا ہے کہ صرف میرے لیے بناتے ہیں۔”

دانت پیس کر اس نے چٹخ کر کہا تھا۔ “اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ ہیں نیو کمر تو یقین کریں تین ماہ نہیں تیس سال کروا دیتا رولز میں۔” لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ تھی، کنول کو پہلی بار اس کی آنکھوں میں کوئی غم، کوئی دکھ،۔کوئی اداسی نظر نہیں آئی تھی۔ “لیلیٰ کو جو پا لیا، تب ہی تو خوش ہیں۔” اس نے دانت پیس کر گہرا سانس لیا۔ “یہ رولز میں تب مانتی تھی، جب میں مجبور تھی، آپ کی مقروض تھی مگر اب نہیں کیوں کہ میں قرض سود سمیت واپس کر چکی ہوں

۔” اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ بے حد سنجیدگی سے بولی تھی۔ ریان نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو اس انداز میں ہاتھ پھیرا کہ وہ اس کی مسکراہٹ نہ دیکھ سکے۔ “ویل آپ نے زیادہ قرضہ دے دیا ہے تو میں مقروض ہو گیا ہوں، اب میں آپ کی طرح اتنا امیر تو ہوں نہیں کہ واپس کر سکوں اتنی جلدی۔۔” اسے دیکھتے ہوئے وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا تھا مگر آنکھوں میں واضح شرارت ناچ رہی تھی ، کنول نے دانت پیسے۔

“تو ٹھیک ہے، آپ یہی سمجھیں کہ میں نے آپ کو بلکہ آپ جیسے غریب کو وہ رقم بطور خیرات دے دی ہے، آپ پر کوئی قرض نہیں ہے۔” تپے ہوئے انداز میں کہہ کر وہ جانے لگی تھی جب پھر ریان کی بات پر رکنا پڑا۔ “خیرات میں کچھ اور چاہیے، مجھے یقین ہے کہ آپ جیسی امیر بندی مجھے ضرور دے گی۔” مسکراتی ہوئی آواز میں کہا گیا تھا۔

“کیا؟” منتشر دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے اس نے ایک نظر اس کو دیکھا۔ “آپ، آپ چاہیئں مجھے۔” بے حد سنجیدگی سے کہا گیا تھا، کنول نے بے ساختہ اسے دیکھا تھا، وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ “آپ بہت بڑے ٹھرکی میرا مطلب فلرٹی ہیں۔” نفی میں غصے سے سر ہلا کر دانت پیستے ہوئے غصیلی آواز میں کہہ کر وہ پھر مڑی، جب ریان نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھی اور پلٹ کر بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا۔ تیرے بن روئے نیناں زویا مجید چوہدری

Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary pdf is here

Tere Bin Roye Naina by Zoya Majeed Chaudhary

Download here

Or

Download from google docs 

some other amazing ROMANTIC novel of Zoya Majeed

Ishq Tera Beparwah by Zoya Majeed Chaudhary

Kanch Ke Churiyan by Zoya Majeed CH

Dil Zid Kar Betha novel by Zoya Majeed

تمام سوشل میڈیا رائیٹرز کو ” ناول گلیکسی” کی ٹیم خوش آمدید کہتی ہے 

ہماری ٹیم کا حصہ بننے کے لیئے اپنا مواد اس ای میل پر بھیجیں۔

Novelgalaxy27@gmail.com

You might also like these NOVELS

Leave a Comment