Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

Posted on

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel complete Urdu novel based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic, family system-based, kidnapping-based, funny, contract marriage, forced marriage, army-based books, etc.

“سر وہ ایک پرابلم ہے دراصل میری سینڈل کافی اونچی ہے اور یہ سیڑھیاں کافی خطرناک لگ رہی ہیں آپ پلیز اگر مجھے تھوڑا سہارا دے دیں تو مہربانی ہوگی” سیڑھیاں چڑھتے ہوئے محب نے مڑ کر مہرماہ کو دیکھا جو ابھی تک پہلی سیڑھی پر کھڑی ہوئی معصومیت سے اسے دیکھ کر اس سے اپنے لیے سہارا مانگ رہی تھی۔۔۔ چہرے پر معصومیت ایسی تھی کہ محب اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا یہ لڑکی اسے شاطر یا تیز بالکل بھی نہیں لگتی تھی۔۔۔

نہ ہی وہ آفس میں کسی سے فری ہوکر بات کرتی تھی مگر نجانے کیوں یہ لڑکی اتنے مسئلے مسائل کا شکار تھی کہ محب کو اس کے ساتھ مسئلوں سے چڑ ہونے لگتی “آپ کو گود میں اٹھاکر ان سیڑھیاں چڑھنا میرے لیے بھی مشکل ہوگا آپ ایسا کریں جاکر کار میں بیٹھ جائیں” محب طنز کرتا ہوا مہرماہ کو بولا تو مہرماہ برا مناتی ہوئی دوبارہ بولی “توبہ کریں سر میں نے کب آپ سے فرمائش کی کہ آپ مجھے گود میں اٹھالیں میں تو آپ کو صرف اپنا ہاتھ تھامنے کے لئے کہہ رہی تھی” مہرماہ کو خود سمجھ نہیں آتا اس کے ساتھ جو بھی مسائل درپیش آتے تھے وہ اس شخص کے سامنے ہی کیوں پیش آتے تھے وہ محب کو سہارے کا بول کر پچھتائی تھی اور واقعی گاڑی کی طرف جانے والی تھی

“مس مہرماہ” محب کے پکارنے پر وہ مڑی تب اسے حیرت ہوئی جب محب نے سیڑھیوں سے واپس اتر کر اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ مہرماہ جھجھکتی ہوئی محب کا ہاتھ تھام کر اسے دیکھنے لگی وہ خود بھی مہرماہ کو دیکھ رہا تھا “چلیں” محب کے آئستہ سے پوچھنے پر مہرماہ نے اثبات میں سر ہلایا تو محب مہرماہ کا ہاتھ تھامے احتیاط سے سیڑھیاں چڑھنے لگا سیڑھیاں واقعی خطرناک تھی محب کو چڑھتے ہوۓ احساس ہوا کہ مہرماہ یا کوئی دوسری لڑکی واقعی سہارے کے بغیر یہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی “ریلکس رہے مس مہرماہ میں آپ کا تھاما ہوا ہاتھ کسی خطرناک موڑ پر نہیں چھوڑو گا

” ایک دو مرتبہ سیڑھیوں کی ڈھلان دیکھ کر مہرماہ کے ہاتھ میں مضبوطی در آئی جسے محسوس کرتا ہوا محب مہرماہ کو دیکھ کر بولا تو مہرماہ کو اطمینان ہوگیا “سیڑھیاں ختم ہوگئی ہیں سر اب میرا ہاتھ چھوڑ دیں” مہرماہ کی آواز پر محب چونکا اور اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا جل کر بولا “بتانے کا شکریہ” کھلی چھت ہونے کی وجہ سے ہوا تیز چل رہی تھی جس سے مہرماہ کے بالوں کی لٹیں اڑ کر بار بار اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی ساتھ ہی اس کا دوپٹہ بھی ہوا میں اڑنے لگا محب کی نظروں کا زاویہ نہ چاہتے ہوئے بار بار مہرماہ کی طرف اٹھنے لگا جو پریشان سی کھڑی کھبی اپنے بالوں کو تو کبھی اپنے دوپٹے کو سنبھال رہی تھی۔۔۔

اچانک ہوا کا زور مزید تیز ہوا جس سے مہرماہ کی شرٹ برے طریقے سے اڑنے لگی۔۔۔ گھٹنوں سے اونچی شرٹ جب اڑ کر مہرماہ کے اپنے چہرے سے ٹکرائی تب محب کی آنکھیں بند ہونے کی بجائے حیرت سے پوری کھل گئی مہرماہ شرمندہ ہوتی ہوئی اپنی شرٹ پکڑ کر نیچے کرنے لگی تو محب میں بھی جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کرلیا۔۔۔ مگر اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب مہرماہ شرٹ نیچے کرنے کے چکر میں اپنے دوپٹے کو فراموش کر بیٹھی “سر سر سر جلدی سے دوپٹہ پکڑیں پلیز” مہرماہ کے چیخنے پر محب تیز رفتار سے مہرماہ کے دوپٹے کی طرف بھاگا اور سریہ میں اٹکا ہوا دوپٹہ لےکر غصے میں مہرماہ کے پاس آیا

“میں یہاں پر کیا کرنے آیا ہوں مس مہرماہ سائٹ کا وزٹ کرنے یا آپ کو اور آپ کے دوپٹے کو سنبھالنے۔۔۔۔ آپ خود بیزار نہیں ہوتی اپنی اوٹ پٹاگ حرکتوں سے۔۔۔ تعجب ہورہا ہے مجھے آپ پر اچھی خاصی بڑی لڑکی ہیں آپ اور اپنا دوپٹہ نہیں سنبھال سکتیں” محب مہرماہ کا دوپٹہ اس کے گلے میں لپٹتے ہوئے غصے میں بولا اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا کیونکہ وہ جتنی دیر مزید یہاں رہتا مہرماہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہی درپیش رہتا۔۔۔ محب کو غصے میں سیڑھیوں سے اترتا ہوا دیکھ کر مہرماہ تیزی سے اس کے پیچھے لپکی

“سررررر آآآآ” ابھی محب نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا تبھی وہ مہرماہ کی درد سے چیخنے کی آواز آئی جس پر محب پلٹ کر مہرماہ کی طرف بڑھنے لگا جو زمین پر اپنا پاؤں پکڑے بیٹھے ہوۓ رو رہی تھی “او میرے خدا میں کہاں جاکر اپنا سر ماروں۔۔۔۔ یہ کیا کرلیا آپ نے اپنے پاؤں کو مس مہرماہ” محب مہرماہ کو دیکھ کر مزید غصے سے بولا کیوکہ اس کی سینڈل سے پار ہوتی ہوئی ایک نوکداری بڑی سی کیل مہرماہ کے پاؤں کو بری طرح زخمی کرگئی تھی “وہ جو سامنے پلر نظر آرہا ہے ناں اس کے قریب جاکر اپنا سر ذرا زور سے مارئیے کیونکہ اس وقت آپ غصہ کرتے ہوئے بہت برے لگ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔

ایک لڑکی جو آپ کے بھروسے آپ کے ساتھ اس جگہ پر آئی ہے وہ آپ کی ذمہ داری ہے اور آپ اس کو زخمی حالت میں دیکھ کر اس پر یوں غصہ کریں گے۔۔۔۔ جائیں آپ محمود صاحب کو بلاکر لاۓ میں اب انہی کے ساتھ یہاں سے نیچے اترو گی” مہرماہ محب کے غصے کی پرواہ کیے بغیر روتی ہوئی بولی محب حیرت سے اس روتی ہوئی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اس کو سر مارنے کی جگہ بتانے کے ساتھ برا بھی بولتی ہوئی بلاوجہ میں شرمندہ کررہی تھی وہ اس کی ذمہ داری کب بنی تھی یہ بات محب کو پتہ بھی نہیں چلی مگر محمود کا نام سن کر محب اپنا غصہ کنٹرول کرتا ہوا نرم پڑگیا “لائیے ذرا دکھاۓ مجھے اپنا پاؤں” مہرماہ کو روتا ہوا دیکھ کر محب نیچے جھکتا ہوا مہرماہ کے پاؤں کا جائزہ لینے لگا

“بریو بنیں مس مہرماہ یہ معمولی سی چوٹ ہے یہ دیکھیے نکل گئی کیل آپکے پاؤں سے” محب نے بولنے کے ساتھ ہی مہرماہ کے پاؤں سے کیل نکالی جس پر مہرماہ ایک دم زور سے چیخی ساتھ ہی اس کے رونے میں مزید اضافہ ہوگیا “چلیں مس مہر ماہ اب خاموش ہوجائیں میں آپ کو سہارا دیتا ہوں کھڑی ہوجائیں پلیز” مہرماہ کے رونے پر وہ جی بھر کر بیزار ہوا تھا مگر پھر بھی ضبط کرتا ہوا نرمی سے مہرماہ کو بہلاتا ہوا بولا

“مجھے آپ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے آپ پلیز محمود صاحب کو بلائے” مہرماہ وہی بیٹھی ہوئی نراٹھے پن سے بولی وہ اتنے بدتمیز انسان کا احسان نہیں لینا چاہتی تھی نہ ہی مزید اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی “محمود صاحب کیا آپ کے چچا لگے ہوۓ ہیں جو آپ کو سہارا دینے کے لیے یہاں آۓ گیں اور اگر وہ آپ کو سہارا دے بھی دیتے ہیں تو پھر ان کو سہارا کون دے گا چلیں ہاتھ بڑھاۓ اپنا میری طرف” محب اب کی بار محمود کا نام سن کر ساری نرمی بھلاۓ مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا ساتھ ہی خود نیچے جھک کر مہرماہ کو اٹھانے لگا

Dive into the Depths of Emotion and Discovery with ‘Teri Deewani’ By Zeenia Sharjeel: A Tale of Love, Identity, and the Life Journey Within.

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel in Pdf

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈکرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں

👇

or

ناول کوپڑھنے کے لیےیہا ں کلک کریں

👇

Novel Galaxy is a world of Urdu novels based on social issues, rude heroes novels, Urdu revenge base novels, Urdu E-book, Urdu digest, Urdu horror and thriller novels, etc. All novels are also available online and in PDF form.

Top Categories of Urdu Novels 

 Here, you will find a list of Urdu novels from all categories that can easily be downloaded in PDF format and saved into your devices/mobile with just one click.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment