Tu Bawra Badal Piya by J.Nikhat

Posted on

Tu Bawra Badal Piya by J.Nikhat complete Urdu novel based on social issues, age differences, cousin marriage, romantic, family system-based, kidnapping-based, funny, contract marriage, forced marriage, army-based books, etc.

“پپا تابی آئے

پپا تابی آئے۔۔

تابش جو دبے قدموں سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا چغل خور یارو کی ٹیں ٹیں پر قدم جکڑے۔جارحانہ تیور لیۓ مڑ کر یارو پر برس پڑا۔۔ “سالے طوطے کھوتے کچھ شرم کرلے دو دن نہیں ہوئے تجھے سائیڈ والے فاروق انکل کے درخت سے چوری کرکے تازہ امرود کھلایا تھا اور نہیں تو کچھ فاروق انکل کے کتے سے ہی وفاداری کی الف بے سیکھ لے،جب دیکھو میرے باپ کی جی حضوری کرتا رہتا،

تجھ جیسے مکار طوطے کی وجہ سے تمہاری پوری نسل بدنام ہے بلکہ تیری ہی وجہ سے ‘ طوطا چشم’ لفظ مشہور ہوا۔۔” تابش نے دانت کچکچا کر صوفے پر پھدک پھدک کر تابش کی شامت بلا رہے یارو کو شرم دلائی۔دل تو کررہا گلا پکڑ کر مڑوڑ دے اس غدار کا جو تابش کی مٹی پلید کروانے کیلئے رات کے تین بجے چوکیداری کر رہا تھا۔

“پپا تابی آئے پپا تابی آئے پپا تاب۔۔ “چپ کر منحوس طوطے کل دیکھ تیری دلدارو کو پیچارو میں کس جہاں میں چھوڑ کر آتا ہوں۔۔” تابش فی الفور یارو کی طرح جهپٹکا لیکن یارو پہلے سے چوکنا تھا تبھی صوفے کے بیک پر پھدک کر چڑھتا اُڑ کر اپر اسٹینڈ پر جا بیٹھا۔اب وہاں اپنے رنگ برنگے پر لہراتا وہی ترانہ زور و شور سے رٹنے لگا۔

“یارو تو۔۔۔” “ابھی تو رات باقی ہے برخوردار آوارہ گردی کرنے کیلئے پھر آپ نے گھر آنے کی زحمت کیوں کر اٹھالی؟؟۔” عقب سے ابھری راحت صاحب کی طنزیہ آواز پر تابش کا من کیا دیوار پر سر دے مارے۔کیونکہ یارو کا قتل اس پر واجب تھا جس میں وہ پوری طرح ناکامياب رہا تھا۔

“تیرا حساب میں الگ سے بےباق کروں گا طوطے کھوتے اور پہلی فرصت میں تیرا نام یارو سے کباڑو رکھوں گا۔۔” تابش نے شرر بار نگاہوں سے یارو کو وارن کیا۔ جس پر یارو صاحب نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے بےنیازی سے ایسے پر جھٹکا جیسے کہ رہا ہو ” پہلے اپنے باپ سے خود کو بچا لو بچت ہوگئی تو اپنا حساب دیکھا جائے گا۔”

“اس بے زبان کو کیوں آنکھیں دکھا رہے ہو رخ روشن کے ادھر درشن دو۔۔” “پاپا یار خدا کا واسطہ چار جوتے مار لیں بس اس فتنہ کو بے زبان مت کہیں۔۔”تابش تڑپ کر بولا۔ “حرکتیں تو آپ کی چوک پر کھڑا کرکے جوتے مارنے جیسی ہی ہے برخوردار۔۔”راحت صاحب بنا لگی پٹی کے بولے۔

“اتنی بے عزتی کے بعد تو یہی ایک کسر باقی رہتی ہے کبھی فرصت ملے تو پوری کر لیجئے گا۔۔”تابش منہ ہی منہ بڑبڑایا۔ پھر سست روی سے جاكر ڈائینگ ٹیبل کے گرد رکھی کرسی پر براجمان ہوا۔قریب پندره بیس دن سے وہ اپنے باپ کے عتاب سے دامن بچا رہا تھا۔لیکن بے سود اتنی بھاگ دوڑ کے بعد آخری کار ہتھے چڑھ ہی گیا تھا

۔اب پوری کلاس سن کر ہی جان چھوٹنے والی تھی۔ “اس سے پہلے کی آپ آغاز لیں میں آپ کو بتا دوں کی جیسا اس شکایتی ٹٹو ایس ای نے آپ کو بتایا ویسا کچھ نہیں تھا ہم نے کوئی ریس نہیں کی نہ ہم کبھی ریس وغیرہ کرتے ہیں۔۔”تابش جھوٹ و سچ کو ملاکر ملغوزہ سا کچھ بولا۔

“غلباً اس شکایتی ٹٹو ایس ای کے پاس ثبوت بھی تھا برخوردار۔۔”راحت صاحب نے اس کے مقابل نشست سنبهالتے ہوئے جتايا۔ “لیکن خیر میں نے آپ کی دلیل کو رد کئے بغیر مان لیا کی آپ نے کوئی ریس نہیں کی نہ کرتے ہیں وہ ایس ای ہی جھوٹ بول رہا تھا۔۔”راحت صاحب اطمینان سے بولے۔

“کیا؟؟؟۔”تابش شدید حیرت کے جھٹکے سے اچھل کر اپنی جگہ کھڑا ہوا۔ “آپ۔۔”ورط حیرت میں اس کی زبان تالوں سے جاچپکی تھی۔ “جی میں آپ کا باپ۔کل سنڈے ہے ذرا اپنی تھوڑا اپنی ضروری مصروفیات سے وقت نکال کر میری بات سننا سو کل ٹی وی لاؤنج میں ملاقات ہوتی ہے گڈ نائٹ۔۔”راحت صاحب اسکی حیرت سے پھٹی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پیٹھ تھپتهپا کر یارو پر ایک مسکراتی نظر ڈال کر واک آؤٹ کر گئے۔۔

“اللہ خیر۔۔”تابش کی حیرانی کی جگہ اب پریشانی نے لے لیا تھا۔ چنگیز خان کے کچھ لگتے ابا جی کا اتنی آسانی سے اس کا یقین کرلینا ہے پھر میٹنگ ٹائم فکس کرکے بنا گھن گرج کے میدان چھوڑ جانا سب ہی غیر متوقع اور تشویش ناک تھا۔ “تابی چاکلیٹ آئے۔۔ تابی یارو چاکلیٹ آئے۔۔ معاً یارو کی میٹھی سریلی کانوں میں رس گھولتی آواز نے تابش کو خیالوں کے سمندر سے نکالا تھا

۔یارو رنگ بدلنے میں گرگٹ کو بھی پیچھے چھوڑ کر دلار سے اپنے بول بدل گیا۔ “غدار تیرے لیۓ تو میں زہر نہ لاؤں دو چٹکی تو چاکلیٹ پوچھ رہا ہے۔۔”تابش کو اس مکار طوطے پر تاؤ آیا جو اس کی واٹ لگانے کے بعد بڑی ڈھٹائی سے فرمائیش کررہا تھا جیسے کتنا لاڈلا ہو اس کا۔

“اور خبردار جو تونے میری بالكنی میں قدم رکھا۔آج تو بلکہ آج سے تو یہیں سوئے گا پاپا کا پہریدار نہیں ضرورت مجھے اب تیری۔۔”تابش آج کچھ زیادہ ہی برا منا گیا تھا۔ یارو نے منہ بسورا مطلب یہ حرکت اس نے آج نیا تو نہیں کیا تھا جو اس کا کرائم پارٹنر اتنا برا منارہا تھا۔

“یارو ساری اے۔ تابی یارو ساری ہے۔۔ یارو پھڑپھڑا کر اس کے کندھے پر بیٹھا۔۔ “اپنا سوری اپنے اس ‘ پر’ میں چھپاکر رکھ نہیں ضرورت مجھے تیری معذرت کی پہلے جوتے مار دو پھر معذرت کر لو بھئی واہ۔۔”تابش ناراضگی سے کہتا یارو کو وہیں ٹیبل پر بیٹھا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

“تابی گندے اے۔۔ تابی گندے اے۔۔ یارو صاحب کی رائے فوراً بدل گئی تھی ناراضگی سے چہرہ پروں میں چھپاتے نغمہ کے بول بدل گئے۔ “آگیا نہ تو اپنی اوقات پر،بلا کا مطلب پرست ہے یار تو۔۔”تابش نے مڑ کر ملامتی نظروں سے اسے دیکھا۔

جو تابش کی باتوں کو دل پر لیتا بجائے اس کے پیچھے جانے کے اُڑ کر فریج پر جا بیٹھا تھا۔ساتھ پر سمیٹ کر پیٹ میں منہ گھسا گیا جس کا مطلب تھا یارو صاحب ناراض ہیں انہیں منایا جائے۔ “ہنہ!مرضی ہے تیری میں نہیں منارہا۔۔”تابش جمائی روکتا آگے بڑھ گیا۔ “تابی گندے اے۔۔”یارو ناراضگی سے گلا پھاڑ کر بولا اس طرح اگنور کیا جانا یارو صاحب کو سخت غصہ دلا گیا تھا۔

Dive into the Depths of Emotion and Discovery with ‘Tu Bawra Badal Piya’ by J.Nikhat A Tale of Love, Identity, and the Life Journey Within.

Tu Bawra Badal Piya by J.Nikhat in Pdf

Tu Bawra Badal Piya by J.Nikhat

ناول کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈکرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پرکلک کریں

👇

or

ناول کوپڑھنے کے لیےیہا ں کلک کریں

👇

Novel Galaxy is a world of Urdu novels based on social issues, rude heroes novels, Urdu revenge base novels, Urdu E-book, Urdu digest, Urdu horror and thriller novels, etc. All novels are also available online and in PDF form.

Top Categories of Urdu Novels 

 Here, you will find a list of Urdu novels from all categories that can easily be downloaded in PDF format and saved into your devices/mobile with just one click.

There’s no content to show here yet.

You might also like these NOVELS

Leave a Comment